طواف اور سعی کی دعائیں: کیا پڑھیں، ترجمے کے ساتھ
تلبیہ، حجرِ اسود، مقامِ ابراہیم، صفا اور مروہ کے مسنون الفاظ، اور طواف و سعی کی دعائیں، عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ۔
پہلی بار جانے والے بہت سے عازمین اس فکر میں رہتے ہیں کہ طواف کے ہر چکر میں "صحیح دعا" پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چکر یا پھیرے کے لیے کوئی مقررہ اور لازمی دعا نہیں ہے۔ چند مخصوص مقامات پر نبی کریم ﷺ سے کچھ الفاظ منقول ہیں؛ باقی وقت آپ اردو، انگریزی یا کسی بھی زبان میں دل سے دعا مانگ سکتے ہیں۔ ذیل میں وہ الفاظ ان کے حوالوں کے ساتھ دیے گئے ہیں، اور قرآن مجید کی چند دعائیں بھی جنہیں آپ شامل کرنا چاہیں۔
تلبیہ
احرام کی نیت کے بعد پڑھا جاتا ہے اور طواف شروع کرنے تک کثرت سے دہرایا جاتا ہے۔ مرد بلند آواز سے پڑھیں اور خواتین آہستہ آواز میں۔
لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
ترجمہ: میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریف، نعمتیں اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حجرِ اسود سے طواف کا آغاز
حجرِ اسود، یا اس کی نشاندہی کرنے والی سیدھ، کی طرف رخ کریں، طواف کی نیت کریں، اور بوسہ دیتے، چھوتے یا ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہیں:
بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ
ترجمہ: اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی حجرِ اسود کی طرف اشارہ فرماتے تو "اللہ اکبر" کہتے؛ "بسم اللہ" کا اضافہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے منقول ہے۔ ہر چکر کے آغاز میں یہی کہیں۔
چکروں کے دوران
کونوں کے درمیان کوئی مقررہ دعا نہیں۔ اللہ کی حمد کریں، نبی کریم ﷺ پر درود بھیجیں، قرآن پڑھیں اور اپنے الفاظ میں جو چاہیں مانگیں۔ اس مقام کی مناسبت سے دو دعائیں:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا ہے جو انہوں نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے مانگی (سورۃ البقرہ، آیت ۱۲۷)۔
اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
ترجمہ: اے اللہ، تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔ (سنن ترمذی)
رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (سورۃ البقرہ، آیت ۲۰۱؛ اس مقام پر اس کا پڑھنا سنن ابو داؤد میں منقول ہے)
طواف کے بعد: مقامِ ابراہیم اور دو رکعت
مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھتے ہوئے یہ آیت پڑھیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ کی حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ نے پڑھی:
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
ترجمہ: اور مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو۔ (سورۃ البقرہ، آیت ۱۲۵)
پھر جگہ ہو تو اس کے پیچھے، ورنہ مسجد میں کہیں بھی، دو رکعت پڑھیں۔ سنت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھیں۔ اس کے بعد زمزم پئیں اور دعا کریں؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہے جس کے لیے اسے پیا جائے (سنن ابن ماجہ)۔
صفا پر، سعی کا آغاز
صرف پہلے چکر کے آغاز میں صفا کے قریب پہنچ کر پڑھیں:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ
ترجمہ: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (سورۃ البقرہ، آیت ۱۵۸)
أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰهُ بِهِ
ترجمہ: میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع فرمایا۔
پھر تھوڑا اوپر چڑھیں، کعبہ شریف کی طرف رخ کریں، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں اور یہ پڑھیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ کی حدیث میں آیا ہے:
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے (تین بار)۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔
یہ تین بار پڑھیں اور درمیان میں اپنی دعائیں مانگیں۔ سات چکروں کے دوران ہر بار مروہ پر، اور پھر صفا پر، پہنچ کر یہی عمل کریں۔
سبز روشنیوں کے درمیان
مرد دونوں سبز روشنیوں کے درمیان تیز چلیں؛ خواتین عام رفتار سے چلیں۔ اس حصے کے لیے صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے یہ دعا منقول ہے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ
ترجمہ: اے میرے رب، بخش دے اور رحم فرما، بے شک تو ہی سب سے زیادہ عزت والا، سب سے زیادہ کرم والا ہے۔
ہر چکر کا باقی حصہ آزادانہ دعا، ذکر یا تلاوت میں گزاریں۔
گھر والوں کو یاد رکھیں
سفر سے پہلے ان سب لوگوں کے نام اور درخواستیں لکھ لیں جنہوں نے آپ سے دعا کی گزارش کی ہے، اور طواف و سعی کے دوران یہ فہرست پڑھتے جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: "اور تمہارے لیے بھی ایسا ہی" (صحیح مسلم)۔ والدین اور گھر والوں کے لیے قرآن مجید کی دو دعائیں:
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: اے میرے رب، ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۲۴)
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
ترجمہ: اے ہمارے رب، ہمیں ہمارے شریکِ حیات اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔ (سورۃ الفرقان، آیت ۷۴)
طواف اور سعی کے آداب
- جو پڑھیں اسے سمجھیں۔ دل سے مانگی گئی مختصر دعا اس لمبی عبارت سے بہتر ہے جو سمجھ میں نہ آئے۔
- آواز پست رکھیں۔ گروپ میں ہوں تو مل کر بلند آواز سے ایسا پڑھنے سے بچیں جس سے آس پاس کے لوگوں کو خلل ہو۔
- لمبی دعا کے لیے طواف کے بہاؤ میں نہ رکیں؛ چلتے رہیں یا ایک طرف ہو جائیں۔
- صفا اور مروہ پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ طواف میں ہاتھ ہر چکر کے آغاز میں حجرِ اسود کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، چلتے ہوئے دعا کے لیے نہیں۔
- ہجوم، بزرگوں اور وہیل چیئر والوں کے ساتھ صبر اور نرمی سے پیش آئیں، اور جھگڑے سے بچیں۔
- فون رکھ دیں۔ تصویریں اور ویڈیو کالز آپ کی زندگی کی قیمتی ترین گھڑیوں سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔
دعائیں ساتھ لے جائیں
ہماری مفت مسنون دعائیں، اردو اور انگریزی میں عمرہ گائیڈ اور پیکنگ چیک لسٹ ریسورسز کے صفحے پر موجود ہیں؛ سفر سے پہلے انہیں پڑھ لینا مفید رہے گا۔ اگر آپ عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہمارے عمرہ پیکجز دیکھیں یا ہم سے بات کریں۔ اور اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیے گا۔
تبصرہ کریں
آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں پر * کا نشان ہے۔



